نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امریکہ کے شہر شکاگو میں اتوار کو نیٹو ممالک کے رہنماؤں کے 2 روزہ اجلاس کا آغاز ہوگیا ہے ۔میزبان صدر باراک اوبامہ سمیت 40 سے زائد ملکوں کے سربراہان مملکت و حکومت کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں

شکاگو (ثناء نیوز )امریکہ کے شہر شکاگو میں اتوار کو نیٹو ممالک کے رہنماؤں کے 2 روزہ اجلاس کا آغاز ہوگیا ہے ۔میزبان صدر باراک اوبامہ سمیت 40 سے زائد ملکوں کے سربراہان مملکت و حکومت کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔صدر آصف علی زرداری کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔2روزہ کانفرنس کے ایجنڈے میں افغانستان کی صورتحال سر فہرست ہے۔کانفرنس میں 2014ء کے اختتام پر افغانستان سے ایک لاکھ تیس ہزار غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء کے پروگرام کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔2014ء کے بعد افٰغانستان میں سلامتی کی صورتحال برقرار رکھنے پر سالانہ اخراجات کا تخمینہ چار ارب ڈالر ہے امریکہ یہ چاہتا ہے کہ اخراجات کا نصف اتحادی ممالک ادا کریں جبکہ اخراجات کا باقی نصف یعنی سالانہ دو ارب ڈالر امریکہ خود برداشت کر یگا۔کانفرنس میں نیٹو رکن ممالک کے دفاعی اخراجات میں کمی کے مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔صدر آصف علی زرداری نیٹو سربراہ کانفرنس میں پاکستان کا موقف واضح اور بھر پور انداز میں پیش کریں گے۔صدر مملکت کانفرنس میں شریک عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔صدر مملکت نے کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ پارلیمانی سفارشات کی روشنی اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے ملنے والی دعوت کی کابینہ کی توثیق کے بعد کیا۔ جمہوری حکومت نے آزاد خارجہ پالیسی پر سختی سے کار بند رہتے ہوئے شکاگو کانفرنس سے پہلے کسی شرط یا مطالبے کی منظوری کو مسترد کر دیا۔ صدر آصف علی زرداری شکاگو میں موجود60 سے زائد عالمی رہنماؤں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے جانی و مالی نقصان کے بارے میں آگاہ کریں گے۔صدر آصف علی زرداری نے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ملاقات کی۔ملاقات کے دوران شیری رحمن، وزیر خارجہ حناء ربانی کھر بھی شریک تھیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں افغانستان سے نیٹو افواج کو واپس بلائے جانے کا موضوع بحث کا محور رہے گا۔پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اس کانفرنس میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں اور اس اجلاس میں پاکستان کے زمینی راستے سے افغانستان میں موجود ایک لاکھ سے زیادہ نیٹو کے فوجیوں کو رسد کی فراہمی کے بارے میں کسی اہم فیصلے کی توقع ہے۔بین الاقوامی خبررساں اداروں کے مطابق اس اجلاس میں نیٹو حکام رکن ممالک پر زور دیں گے کہ افغانستان سے نیٹو فوجوں کا انخلا عجلت کے بجائے نہایت منظم طریقے سے عمل میں لایا جائے۔اس اجلاس میں اس بات کو بھی یقینی بنائے جانے کی کوشش کی جائے گی کہ نیٹو کے رکن ممالک افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے لیے اتنی مالی امداد دینے پر تیار ہو جائیں کہ نیٹو فوج کے انخلا کے بعد افغان فورسز اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کر سکیں اور طالبان کے خطرے سے بخوبی نمٹ سکیں۔شکاگو کانفرنس سے قبل بیشتر مغربی ممالک کے رہنماوں نے کیمپ ڈیویڈ میں جی ایٹ ملکوں کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔اس اجلاس کے بعد امریکی صدر بارک اوباما نے کہا کہ جی ایٹ کے ملکوں نے پوری سنجیدگی سے یورپ کو درپیش اقتصادی بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔   Ehtasabi Amal Lahore احتسابي عمل لاھور

انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے

عمان (ثناء نیوز ) انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یو ٹیوب سے گستاخانہ فلم نہ ہٹانے پر گوگل کے بائیکاٹ کی وجہ سے کمپنی کو رینکنگ میں پہلے نمبر سے تیسرے پر آ گئی ہے۔ سائبر اسپیس پر حکمرانی کرنے والی گوگل کمپنی یومیہ تین ملین زائرین سے محروم ہو رہی ہے۔الیکسا’ کے مطابق گوگل کو پچھلے آٹھ برسوں سے انٹرنیٹ سرچ انجن کی دنیا میں پہلے نمبر پر رہا ہے، لیکن صارفین کے حالیہ بائیکاٹ سے کمپنی پہلے، دوسرے اور اب تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔اردن سے شائع ہونے والے ‘الدستور’ اخبار نے گوگل کی گرتی ساکھ سے متعلق اپنی رپورٹ میں مغربی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ ‘متنازعہ مواد’ بلاک نہ کرنے کے باعث گوگل کو یومیہ تقریبا تین ملین صارفین کی کمی کا سامنا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں نے گوگل سرچ انجن کا متبادل تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ گوگل کی مقبولیت میں تیزی سے کمی کا فائدہ کمپنی سے کاروباری مسابقت رکھنے والے سرچ ...