نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پریس کونسل آف انڈیا نے فوج کی نقل و حرکت کے بارے میں رپورٹنگ نہ کرنے سے متعلق الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔پریس کونسل آف انڈیا کا موقف ہے کہ ہائی کورٹ کے احکامات آزادی اظہار کے قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

نئی دہلی (ثناء نیوز)پریس کونسل آف انڈیا نے فوج کی نقل و حرکت کے بارے میں رپورٹنگ نہ کرنے سے متعلق الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔پریس کونسل آف انڈیا کا موقف ہے کہ ہائی کورٹ کے احکامات آزادی اظہار کے قانون کی خلاف ورزی ہیں۔گزشتہ دس اپریل کو جسٹس اوما ناتھ سنگھ اور ویرندر کمار کی قیادت میں الہ آباد ہائی کورٹ کی ایک بینچ نے اپنے اہم فیصلے میں فوج کی نقل و حرکت سے متعلق خبریں نشر کرنے یا شائع کرنے سے منع کر دیا تھا۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں مرکزی اور ریاستی حکام کو ہدایات دی تھیں ’اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ فوج کی نقل و حرکت سے متعلق کوئی بھی خبر جاری نہ ہونے پائے، پرنٹ میڈیا میں شائع نہ ہو اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی نشر نہ کی جائے۔‘الہ آباد ہائی کورٹ نے اس پر نفاذ کے لیے مرکزی حکومت کے سیکرٹری، وزارت اطلاعات و نشریات کے سیکرٹری اور ریاست کے داخلہ سیکرٹری کو نوٹس جاری کیا تھا۔ہائی کورٹ کی ان ہدایات کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین سابق سپریم کورٹ کے جج مارکنڈے کٹجو نے دائر کی ہے۔”ہائی کورٹ کی عزت و توقیر اپنی جگہ لیکن میرے خیال سے یہ فیصلہ صحیح نہیں ہے، میڈیا کو پورا اختیار اور آزادی ہے کہ وہ اس طرح کی خبر نشر کرے کیونکہ اس سے قومی سلامتی کو کو ئ? خطرہ نہیں ہے۔”اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ آئین کی دفعہ انیس (ایک) کے تحت ہر شہری اور میڈیا کو جو اظہار کی آزادی دی گئی ہے اس کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔اس سے قبل جسٹس کٹجو نے ایک بیان میں کہا تھا ’ہائی کورٹ کی عزت و توقیر اپنی جگہ لیکن میرے خیال سے یہ فیصلہ صحیح نہیں ہے، میڈیا کو پورا اختیار اور آزادی ہے کہ وہ اس طرح کی خبر نشر کرے کیونکہ اس سے قومی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ مفاد عامہ کی ایک درخواست پر سماعت کے بعد دیا تھا۔ مفاد عامہ کی عرضی فوج کی نقل و حرکت سے متعلق چار اپریل کو ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی اس خبر کی بنیاد پر دائر کی گئی تھی۔اس خبر میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فوج کے بعض دستے پیشگی اطلاع کے بغیر دلی کی طرف کْوچ کر گئے تھے جس سے حکومت پریشان ہوگئی تھی اور اسے راستے میں ہی روکنے کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا گ?ا تھا۔مارکنڈے کٹجو نے کہا کہ بھارتی فوج کوئی کلونیل فورس نہیں ہے بلکہ عوام کی فوج ہے اور عوام ہی اپنے ٹیکس سے پورے دفاعی بجٹ کو پورا کرتی ہے۔ان کا موقف ہے کہ اسی وجہ سے عوام کو اپنی فوج کے معاملات سے متعلق معلومات کا حق ہے۔




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔   Ehtasabi Amal Lahore احتسابي عمل لاھور

امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستانمیں رکے ہوئے کنٹینرز کی جلد روانگی کے لیے تکنیکی امور پر اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں

واشنگٹن(ثناء نیوز ) امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستان میں رکے ہوئے کنٹینرز کی جلد روانگی کے لیے تکنیکی امور پر اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دیئے جانے والے کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کے طریقہ کار میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان جان ایف کربی کا کہنا تھا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کا اپنا طریقہ کار ہے اور میڈیا پر آنے والی ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ فنڈ کی فراہمی کے طریقے کو نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد تبدیل کیا جارہا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے فنڈز کا مطالبہ 2011میں کیا گیا تھا اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 2002 سے پاکستان کیلئے آٹھ اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر جاری کئے جاچکے ہیں اور آخری قسط دسمبر 2010 میں چھے سو تینتیس ملین ڈالر کی جاری کی گئی تھی۔ پنٹاگون کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اتحادی سپورٹ فنڈ کے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر ضابطے کی کارروائی کے بعد ادا کیے جائیں گے. واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کیپٹن جان کربی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے...

Solar power is a clean energy source. But in this arid part of northwest India it can also be a dusty one.

KHADODA, India — Solar power is a clean energy source. But in this arid part of northwest India it can also be a dusty one. Lanterns Are a Ready Example of Solar Power’s Potential (December 29, 2011) Every five days or so, in a marriage of low and high tech, field hands with long-handled dust mops wipe down each of the 36,000 solar panels at a 63-acre installation operated by Azure Power. The site is one of the biggest examples of India’s ambitious plan to use solar energy to help modernize its notoriously underpowered national electricity grid, and reduce its dependence on coal-fired power plants. Azure Power has a contract to provide solar-generated electricity to a state-government electric utility. Inderpreet Wadhwa, Azure’s chief executive, predicted that within a few years solar power would be competitive in price with India’s conventionally generated electricity. “The efficiency of solar technology will continue to increase, and with the increasing demand in solar energy...