نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بھارتی وزیر پٹرولیم مانی شنکر کی تائید کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے چئیرمین مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ کشمیر کا فوجی حل نہیں ہے

اسلام آباد(ثناء نیوز ) بھارتی وزیر پٹرولیم مانی شنکر کی تائید کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے چئیرمین مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ کشمیر کا فوجی حل نہیں ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن ممکن نہیں۔پاکستان آمد پر بھارتی وزیر پٹرولیم نے کہا کہ کشمیر کا فوجی حل نہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط کرنے کے لئے ضروری ہو گا کہ تجارت ، کھیل اور ثقافتی وفود میںتبادلے کئے جائیں۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 65 سال کی تاریخ گواہ ہے کہ پاک بھارت تعلقات کی مضبوطی اور جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے لئے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہو۔ انہوں نے کہا کہ 6 دہائیوں میں تجارت کے ساتھ وفود کے تبادلے بھی ہوتے رہے مگر امن قائم نہیں ہو سکا اور یہاں کے عوام کو نہ صرف جنگیں دیکھنا پڑیں بلکہ وہ خاطر خواہ ترقی بھی نہ کرسکے کیونکہ وسائل معاشی ترقی کی بجائے فوجی اخراجات پر صرف ہوتے رہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیر نے ٹھیک کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا فوجی حل نہیں ہے اس لیئے بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے فوجیں نکالنی چاہئے ۔مگر افسوس کا مقام ہے کہ بھارت وہاں سے افواج نکالنے کی بجائے بڑھا رہا ہے۔ پہلے وہاں سات لاکھ فوج تھی اب آٹھ لاکھ سے زیادہ سیکورٹی فورسز ہیں اور جموں و کشمیر کی پولیس اس کے علاوہ ہے۔ اتنی بڑی فوج کا وہاں رکھنا اور کالے قوانین کا منسوخ نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں حالات پُرامن نہیں۔کشمیر ی بھارت سے آزادی چاہتے ہیں اور بھات ان کی خواہش کو کچلنا چاہتا ہے ۔ چئیرمین کشمیر کمیٹی نے واضح کیا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق چاہتا ہے بھارت کے خواہش کے مطابق نہیں ۔ کیونکہ بھارت کے ارادوںکا تو سب کو پتہ ہے بھارتی لیڈر تو یہی کہتے ہیں کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور وہاں کوئی تحریک آزادی نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اگر وہاں کوئی تحریک آزادی نہیں ہے تو پھر وہاں سات لاکھ بھارتی فوج کیا کر رہی ہے اور بھارت کالے قوانین منسوخ کیوں نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاڈگاڈنکر جیسے مذاکرات کار کو ریاست جموں و کشمیر اس لئے بھیجتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر مٹی ڈالی جائے اور ریاست پر بھارت کا کنٹرول مضبوط ہو۔




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔   Ehtasabi Amal Lahore احتسابي عمل لاھور

امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستانمیں رکے ہوئے کنٹینرز کی جلد روانگی کے لیے تکنیکی امور پر اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں

واشنگٹن(ثناء نیوز ) امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستان میں رکے ہوئے کنٹینرز کی جلد روانگی کے لیے تکنیکی امور پر اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دیئے جانے والے کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کے طریقہ کار میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان جان ایف کربی کا کہنا تھا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کا اپنا طریقہ کار ہے اور میڈیا پر آنے والی ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ فنڈ کی فراہمی کے طریقے کو نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد تبدیل کیا جارہا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے فنڈز کا مطالبہ 2011میں کیا گیا تھا اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 2002 سے پاکستان کیلئے آٹھ اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر جاری کئے جاچکے ہیں اور آخری قسط دسمبر 2010 میں چھے سو تینتیس ملین ڈالر کی جاری کی گئی تھی۔ پنٹاگون کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اتحادی سپورٹ فنڈ کے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر ضابطے کی کارروائی کے بعد ادا کیے جائیں گے. واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کیپٹن جان کربی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے...

انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے

عمان (ثناء نیوز ) انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یو ٹیوب سے گستاخانہ فلم نہ ہٹانے پر گوگل کے بائیکاٹ کی وجہ سے کمپنی کو رینکنگ میں پہلے نمبر سے تیسرے پر آ گئی ہے۔ سائبر اسپیس پر حکمرانی کرنے والی گوگل کمپنی یومیہ تین ملین زائرین سے محروم ہو رہی ہے۔الیکسا’ کے مطابق گوگل کو پچھلے آٹھ برسوں سے انٹرنیٹ سرچ انجن کی دنیا میں پہلے نمبر پر رہا ہے، لیکن صارفین کے حالیہ بائیکاٹ سے کمپنی پہلے، دوسرے اور اب تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔اردن سے شائع ہونے والے ‘الدستور’ اخبار نے گوگل کی گرتی ساکھ سے متعلق اپنی رپورٹ میں مغربی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ ‘متنازعہ مواد’ بلاک نہ کرنے کے باعث گوگل کو یومیہ تقریبا تین ملین صارفین کی کمی کا سامنا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں نے گوگل سرچ انجن کا متبادل تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ گوگل کی مقبولیت میں تیزی سے کمی کا فائدہ کمپنی سے کاروباری مسابقت رکھنے والے سرچ ...