نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات اور سی اینجی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔پٹرول فی لیٹر 10 روپے 46 پیسے، ڈیزل 6 روپے 8 پیسے، مٹی کا تیل 5 روپے 26 پیسے اور ایچ او بی سی فی لیٹر 11 روپے 75 پیسے سستا ہو گیا ہے


اسلام آباد(ثناء نیوز ) وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات اور سی اینجی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔پٹرول فی لیٹر 10 روپے 46 پیسے، ڈیزل 6 روپے 8 پیسے، مٹی کا تیل 5 روپے 26 پیسے اور ایچ او بی سی فی لیٹر 11 روپے 75 پیسے سستا ہو گیا ہے۔ سی این جی کی قیمت میں فی کلو گرام 4 روپے 82 پیسے کمی کر دی گئی ہے۔ قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کو یقینی بنایا جائے۔ جمعہ کو یہ اعلان وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ اور وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈاکٹر عاصم حسین نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق سی این جی ریجن ون میں 4 روپے 82 پیسے ، ریجن ٹو میں 4 روپے 87 پیسے سستی کی گئی ہے ۔ ریجن ون میں پوٹھوار، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان شامل ہیں۔ ریجن ٹو میں سندھ اور وسطیٰ پنجاب شامل ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پٹرولیم مصنوعات اور سی این جی کی قیمتوں میں کمی سے کئی اشیاء کی پیداواری لاگت بھی کم ہو جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ اب ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کو یقینی بنانا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ حکومت بجلی و آبپاشی کے بڑے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھاشا ڈیم اور نیلم جہلم کے منصوبے اس حکومت کے دور میں شروع ہوئے ہیں۔ تھرل کول کے منصوبے کی ملکیت کا مسئلہ بھی اس جمہوری حکومت نے حل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت خرید اور فروخت میں فرق حکومت ادا کرتی ہے۔ انرجی مکس ہم سے پہلی کی حکومتوں میں خراب ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پانی اور کوئلے سے بھی سستی بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔ وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر پندرہ روز کے بعد ردوبدل ہو گا۔ فرنس آئل کی قیمت میں کمی سے بجلی کی پیداواری لاگت میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایل این جی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ملک کو سالانہ ایک ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی این جی اور پٹرول کی قیمتوں میں 60فیصد فرق رکھا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس خطے میں دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ وزیر پٹرولیم نے کہا کہ ایل این جی پاک ایران اور تاپی گیس پائپ لائن منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی کے صارفین کو بجلی کے بلز کے ذریعے سبسڈی سے آگاہ رکھا جائے گا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔   Ehtasabi Amal Lahore احتسابي عمل لاھور

امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستانمیں رکے ہوئے کنٹینرز کی جلد روانگی کے لیے تکنیکی امور پر اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں

واشنگٹن(ثناء نیوز ) امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستان میں رکے ہوئے کنٹینرز کی جلد روانگی کے لیے تکنیکی امور پر اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دیئے جانے والے کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کے طریقہ کار میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان جان ایف کربی کا کہنا تھا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کا اپنا طریقہ کار ہے اور میڈیا پر آنے والی ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ فنڈ کی فراہمی کے طریقے کو نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد تبدیل کیا جارہا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے فنڈز کا مطالبہ 2011میں کیا گیا تھا اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 2002 سے پاکستان کیلئے آٹھ اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر جاری کئے جاچکے ہیں اور آخری قسط دسمبر 2010 میں چھے سو تینتیس ملین ڈالر کی جاری کی گئی تھی۔ پنٹاگون کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اتحادی سپورٹ فنڈ کے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر ضابطے کی کارروائی کے بعد ادا کیے جائیں گے. واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کیپٹن جان کربی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے...

Solar power is a clean energy source. But in this arid part of northwest India it can also be a dusty one.

KHADODA, India — Solar power is a clean energy source. But in this arid part of northwest India it can also be a dusty one. Lanterns Are a Ready Example of Solar Power’s Potential (December 29, 2011) Every five days or so, in a marriage of low and high tech, field hands with long-handled dust mops wipe down each of the 36,000 solar panels at a 63-acre installation operated by Azure Power. The site is one of the biggest examples of India’s ambitious plan to use solar energy to help modernize its notoriously underpowered national electricity grid, and reduce its dependence on coal-fired power plants. Azure Power has a contract to provide solar-generated electricity to a state-government electric utility. Inderpreet Wadhwa, Azure’s chief executive, predicted that within a few years solar power would be competitive in price with India’s conventionally generated electricity. “The efficiency of solar technology will continue to increase, and with the increasing demand in solar energy...