نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دینے کے خلاف ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے


اسلام آباد(ثناء نیوز)پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دینے کے خلاف ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔پاکستان مسلم لیگ(ن(کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی بالادستی قائم کرنے کے لیے سپریم کورٹ کا فیصلہ انتہائی اہم ہے۔انھوں نے کہا کہ آج کا فیصلہ یہ روایت قائم کرتا ہے کہ ہر شخص قانون کی نظر میں ایک جیسا ہے اور اگر وہ سزا یافتہ ہے تو وہ اپنے عہدے کے لیے نااہل ہوجاتا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے وہ نظام کو پٹڑی سے اترنے دے یا کوئی ایسا اقدام ہو جو غیر آئینی ہو اور پاکستان کی عوام جمہوریت اور آئین کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اور وہ کریں گے بھی۔تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہے اور ہمیں اس فیصلے پر مکمل اطمینان ہے۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یوسف رضا گیلانی صاحب نہ وزیر اعظم نہیں رہے اور نہ ہی ان کی کابینہ موجود ہے۔انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی میں عددی اکثریت حاصل ہے وہ کسی اور کو جسے وہ مناسب سمجھیں آئین کے مطابق وزیراعظم منتخب کرلیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلے سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔مجھے جمہوریت کو کوئی نقصان دکھائی نہیں دے رہا، ملک میں قبل از وقت انتخابات کا راستہ موجود ہے، نئے وزیراعظم کو منتخب کرنے کا راستہ موجود ہے تو نئے وزیراعظم کو منتخب کرلیں، جمہوریت کو پٹڑی سے اترنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور پوری قوم اس پر متفق ہے کہ جمہوریت کو تسلسل سے جاری رہنا چاہیے۔جماعت اسلامی کے پروفیسر اور سابق سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے سپریم کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہمجھے افسوس ہے کہ گیلانی نے عدالت کے فیصلے کو قبول نہیں کیا اور پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے آمنے سامنے لانے کی کوشش کی جو جمہوریت کے لیے ان کا بدترین اقدام تھا، سپریم کورٹ کے فیصلے نے آئین، قانون اور جمہوریت کی بالادستی کو قائم کیا ہے اور پارلیمنٹ کو اپنے حدود میں رہتے ہوئے نئے وزیر اعظم کا انتخاب کرنا چاہیے۔بلوچستان کی قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ان کے مطابق یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ سپریم کورٹ پاکستان کے وزیراعظم کو نااہل قرار دے تو اسے زیادہ بری صورت حال کیا ہوسکتی ہے وہ بھی ایسی صورت حال میں جب آپ پوری دنیا میں تنہائی کا شکار ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے عالمی سطح پر ملک پر بہت خراب اثرات مرتب ہوں گے اسی لیے میں سمجھتاہوں کہ اس فیصلے سے ملک کو خاص طور پر جمہوریت کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔   Ehtasabi Amal Lahore احتسابي عمل لاھور

انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے

عمان (ثناء نیوز ) انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یو ٹیوب سے گستاخانہ فلم نہ ہٹانے پر گوگل کے بائیکاٹ کی وجہ سے کمپنی کو رینکنگ میں پہلے نمبر سے تیسرے پر آ گئی ہے۔ سائبر اسپیس پر حکمرانی کرنے والی گوگل کمپنی یومیہ تین ملین زائرین سے محروم ہو رہی ہے۔الیکسا’ کے مطابق گوگل کو پچھلے آٹھ برسوں سے انٹرنیٹ سرچ انجن کی دنیا میں پہلے نمبر پر رہا ہے، لیکن صارفین کے حالیہ بائیکاٹ سے کمپنی پہلے، دوسرے اور اب تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔اردن سے شائع ہونے والے ‘الدستور’ اخبار نے گوگل کی گرتی ساکھ سے متعلق اپنی رپورٹ میں مغربی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ ‘متنازعہ مواد’ بلاک نہ کرنے کے باعث گوگل کو یومیہ تقریبا تین ملین صارفین کی کمی کا سامنا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں نے گوگل سرچ انجن کا متبادل تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ گوگل کی مقبولیت میں تیزی سے کمی کا فائدہ کمپنی سے کاروباری مسابقت رکھنے والے سرچ ...