نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر نے بیس جون کو منائے جانے والے پناہ گزینوں کے عالمی دن کی مناسبت سے پیر کو اپنی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے مغربی ممالک پر ترقی پذیر ریاستوں کی زیادہ مدد کے لیے زور دیا ہے

نیویارک(ثناء نیوز ) اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر نے بیس جون کو منائے جانے والے پناہ گزینوں کے عالمی دن کی مناسبت سے پیر کو اپنی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے مغربی ممالک پر ترقی پذیر ریاستوں کی زیادہ مدد کے لیے زور دیا ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں جنم لینے والے نت نئے بحرانوں نے انسانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے اور مغربی دنیا کو زیادہ تعداد میں پناہ گزین اپنے ہاں قبول کرتے ہوئے ترقی پذیر دنیا کی مدد کرنی چاہیے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین انتونیو گتیریس کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس افریقہ، مشرقِ وسطی اور دیگر خطوں میں تنازعات کی وجہ سے آٹھ لاکھ انسان اپنا گھر بار چھوڑنے اور دوسرے ملکوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے اور یہ کہ سن 2000 کے بعد سے پناہ کے متلاشی انسانوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ تب، یعنی گیارہ سال پہلے، یہ تعداد آٹھ لاکھ 22 ہزار ریکارڈ کی گئی تھی۔اپنے ہی ملکوں کے اندر ہجرت پر مجبور ہو جانے والے انسانوں کو بھی شمار کیا جائے تو پناہ کے متلاشی انسانوں کی تعداد مجموعی طور پر 4.3 ملین بنتی ہے۔رپورٹ کے مطابق گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے یا اپنے اپنے ملک کے اندر ہی پناہ کی تلاش میں سرگرداں انسانوں کی مجموعی تعداد میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جہاں 2010 میں یہ تعداد 43.7 ملین تھی، وہاں 2011 میں یہ تعداد 42.5 ملین ریکارڈ کی گئی۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے لیکن اپنے اپنے ملک کے اندر ہی مقیم رہنے والے 3.2 ملین انسان بالآخر اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے میں کامیاب ہوئے اور یہ کہ گزشتہ ایک عشرے میں یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تعداد ہے۔UNHCR کی اس رپورٹ کے مطابق پناہ کے متلاشی افراد کی زیادہ تعداد کے اعتبار سے افغانستان

2.7 ملین مہاجرین کے ساتھ بدستور سرفہرست ہے۔ اِس کے بعد عراق (1.4 ملین)، صومالیہ (1.1 ملین)، سوڈان (پانچ لاکھ) اور کانگو (چار لاکھ 91 ہزار) کا نمبر آتا ہے۔اِس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مغربی دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں جرمنی نے سب سے زیادہ غیر ملکیوں کو پناہ دی ہے۔ آج کل جرمنی میں مقیم ایسے انسانوں کی تعداد پانچ لاکھ 72 ہزار ہے، جو مسلح تنازعات یا سیاسی تعاقب کی وجہ سے اپنا اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔   Ehtasabi Amal Lahore احتسابي عمل لاھور

امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستانمیں رکے ہوئے کنٹینرز کی جلد روانگی کے لیے تکنیکی امور پر اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں

واشنگٹن(ثناء نیوز ) امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستان میں رکے ہوئے کنٹینرز کی جلد روانگی کے لیے تکنیکی امور پر اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دیئے جانے والے کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کے طریقہ کار میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان جان ایف کربی کا کہنا تھا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کا اپنا طریقہ کار ہے اور میڈیا پر آنے والی ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ فنڈ کی فراہمی کے طریقے کو نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد تبدیل کیا جارہا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے فنڈز کا مطالبہ 2011میں کیا گیا تھا اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 2002 سے پاکستان کیلئے آٹھ اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر جاری کئے جاچکے ہیں اور آخری قسط دسمبر 2010 میں چھے سو تینتیس ملین ڈالر کی جاری کی گئی تھی۔ پنٹاگون کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اتحادی سپورٹ فنڈ کے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر ضابطے کی کارروائی کے بعد ادا کیے جائیں گے. واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کیپٹن جان کربی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے...

انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے

عمان (ثناء نیوز ) انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یو ٹیوب سے گستاخانہ فلم نہ ہٹانے پر گوگل کے بائیکاٹ کی وجہ سے کمپنی کو رینکنگ میں پہلے نمبر سے تیسرے پر آ گئی ہے۔ سائبر اسپیس پر حکمرانی کرنے والی گوگل کمپنی یومیہ تین ملین زائرین سے محروم ہو رہی ہے۔الیکسا’ کے مطابق گوگل کو پچھلے آٹھ برسوں سے انٹرنیٹ سرچ انجن کی دنیا میں پہلے نمبر پر رہا ہے، لیکن صارفین کے حالیہ بائیکاٹ سے کمپنی پہلے، دوسرے اور اب تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔اردن سے شائع ہونے والے ‘الدستور’ اخبار نے گوگل کی گرتی ساکھ سے متعلق اپنی رپورٹ میں مغربی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ ‘متنازعہ مواد’ بلاک نہ کرنے کے باعث گوگل کو یومیہ تقریبا تین ملین صارفین کی کمی کا سامنا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں نے گوگل سرچ انجن کا متبادل تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ گوگل کی مقبولیت میں تیزی سے کمی کا فائدہ کمپنی سے کاروباری مسابقت رکھنے والے سرچ ...