نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہپاکستان کے پاس ڈرون طیارے گرانے کی صلاحیت موجود ہے


لاہور(ثناء نیوز ) ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہپاکستان کے پاس ڈرون طیارے گرانے کی صلاحیت موجود ہے اگر حمزہ میزائل لگا دیئے جائیں تو کوئی ڈرون نہیں آئے گا ،قبائلی علاقوں میں بے گناہ اور معصوم بچے مررہے ہیں لیکن حکمران ایک ارب ڈالرکی امداد کے لئے خاموش ہیں۔ وکلا نے ہمیشہ انقلاب کا آغاز کیا لیکن جج کو جوتا مارنے جیسے واقعات سے دکھ ہوتا ہے ۔ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان لاہور ڈسٹرکٹ بار میں وکلا سے خطاب کررہے تھے ،اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے وکلا نے ہمیشہ انقلاب کا آغاز کیا لیکن جج کو جوتا مارنے جیسے واقعات سے دکھ ہوتا ہے انھوں نے مزید کہا کہ کبھی کسی سائنسدان نے لوڈشیڈنگ کے معاملے پر کسی وزیر کو جوتا نہیں مارا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب شریف اور اچھے انسان ہیں لیکن جہاں سوچ سے اختلاف ہوتا ہے تو میں ان کے حوالے سے بھی بات کرتا ہوں ایٹمی سائنسدان نے کہا کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے جب ہاکستان بنا تو کوئی سندھی بلوچی پنجابی یا پٹھان نہیں تھا اب پاکستان کو بچانا ہے اس لئے متحد ہونا پڑے گا ۔ملک کے مسائل ٹیکنوکریٹ حل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی ذخائر سے مالامال ہے تاہم حکمرانوں کی نیت ٹھیک نہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے روکنے کی ٹیکنالوجی ہمارے پاس موجود ہے، حمزہ میزائل سے ڈرون طیاروں کوگرایاجاسکتاہے۔ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ اگرہم ایٹم بم بناسکتے ہیں توتوانائی بحران کافوری خاتمہ بھی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو سزاسناتے ہوئے نااہل بھی قراردیاجاناچاہئے تھا، سیاستدان آپس میں ملے ہوئے ہیں ،حکومت کیخلاف کوئی لانگ مارچ نہیں ہوگا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔   Ehtasabi Amal Lahore احتسابي عمل لاھور

امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستانمیں رکے ہوئے کنٹینرز کی جلد روانگی کے لیے تکنیکی امور پر اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں

واشنگٹن(ثناء نیوز ) امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستان میں رکے ہوئے کنٹینرز کی جلد روانگی کے لیے تکنیکی امور پر اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دیئے جانے والے کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کے طریقہ کار میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان جان ایف کربی کا کہنا تھا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کا اپنا طریقہ کار ہے اور میڈیا پر آنے والی ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ فنڈ کی فراہمی کے طریقے کو نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد تبدیل کیا جارہا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے فنڈز کا مطالبہ 2011میں کیا گیا تھا اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 2002 سے پاکستان کیلئے آٹھ اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر جاری کئے جاچکے ہیں اور آخری قسط دسمبر 2010 میں چھے سو تینتیس ملین ڈالر کی جاری کی گئی تھی۔ پنٹاگون کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اتحادی سپورٹ فنڈ کے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر ضابطے کی کارروائی کے بعد ادا کیے جائیں گے. واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کیپٹن جان کربی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے...

انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے

عمان (ثناء نیوز ) انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یو ٹیوب سے گستاخانہ فلم نہ ہٹانے پر گوگل کے بائیکاٹ کی وجہ سے کمپنی کو رینکنگ میں پہلے نمبر سے تیسرے پر آ گئی ہے۔ سائبر اسپیس پر حکمرانی کرنے والی گوگل کمپنی یومیہ تین ملین زائرین سے محروم ہو رہی ہے۔الیکسا’ کے مطابق گوگل کو پچھلے آٹھ برسوں سے انٹرنیٹ سرچ انجن کی دنیا میں پہلے نمبر پر رہا ہے، لیکن صارفین کے حالیہ بائیکاٹ سے کمپنی پہلے، دوسرے اور اب تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔اردن سے شائع ہونے والے ‘الدستور’ اخبار نے گوگل کی گرتی ساکھ سے متعلق اپنی رپورٹ میں مغربی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ ‘متنازعہ مواد’ بلاک نہ کرنے کے باعث گوگل کو یومیہ تقریبا تین ملین صارفین کی کمی کا سامنا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں نے گوگل سرچ انجن کا متبادل تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ گوگل کی مقبولیت میں تیزی سے کمی کا فائدہ کمپنی سے کاروباری مسابقت رکھنے والے سرچ ...