نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

صدر آصف علی زر داری نے کہا ہے کہخواتین پر تشدد کے خلاف مہم خوش آئند ہے


اسلام آباد(ثناء نیوز ) صدر آصف علی زر داری نے کہا ہے کہخواتین پر تشدد کے خلاف مہم خوش آئند ہے مہم میں کام کر نے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں خواتین پر تشدد ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور تشدد خواتین کی انا اور شخصیت کو بری طرح متاثر کرتا ہے خواتین پر مظالم پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ ایوان صدر میں خواتین پر تشدد کے خلاف 10 لاکھ افراد کی دستخطی مہم کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ اس مہم کا مقصد خواتین کے حقوق کے لیے شعور آگہی پیدا کرنا ہے۔ صدر نے کہا کہ ملک بھر میں مظلوم خواتین کو پناہ دینے کے لیے 26 سینیٹرز قائم کیے گئے ہیں جمہوری حکومت خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے کوشاں ہے خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے بے نظیر بھٹو کے ویژن پر عمل پیرا ہیں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اہم مقصد خواتین کو با اختیار بنانا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں خواتین کو مزید با اختیار بنایا جائے گا ۔ خواتین کے حقوق کے لیے جمہوری حکومت نے اہم قانون سازی کی ہے خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات روکنے کے لیے قانون سازی کی قیدی خواتین کو قانونی معاونت فراہم کر نے کا اقدام کیا گیا کام کے مقامات پر خواتین کو ہراساں کر نے کے خلاف قانون پاس ہوا خواتین ججز تعینات کر نے سے متعلق قانون سازی پر غور کر رہے ہیں صدر نے کہا کہ متعدد اہم اقدامات کے باوجود بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے خواتین کے بارے میں مردوں کے خیالات میں تبدیلی لانا ہو گی ۔ صدر آصف علی زر داری نے کہا کہ انسان یحقوق کے تحفظ کے لیے انسانی حقوق کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ صدر نے کہا کہ خواتین پر تشدد ہر شعبہ زندگی میں دیکھنے میں آیا ہے۔ صدر نے کہا کہ خواتین پر تشدد بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور ظلم و بربریت کی ایک بدترین شکل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومت کی کوشش ہے کہ خواتین پر ہر قسم کے تشدد کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف تمام قوانین کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کوشش ہے کہ خواتین کو تمام شعبوں میں با اختیار بنایا جائے۔ صدر مملکت نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ قانون سازی کے ذریعے گھریلو تشدد کا شکار خواتین کو ریلیف دیا جائے اس سے قبل صدر مملکت نے خواتین پر تشدد کے خلاف 10 لاکھ افراد کی دستخطی مہم میں حصہ لیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین پر ہر قسم کے تشدد کا خاتمہ ممکن بنایا جائے گا اور انہیں ہر شعبے میں با اختیار بنایا جائے گا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔   Ehtasabi Amal Lahore احتسابي عمل لاھور

انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے

عمان (ثناء نیوز ) انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یو ٹیوب سے گستاخانہ فلم نہ ہٹانے پر گوگل کے بائیکاٹ کی وجہ سے کمپنی کو رینکنگ میں پہلے نمبر سے تیسرے پر آ گئی ہے۔ سائبر اسپیس پر حکمرانی کرنے والی گوگل کمپنی یومیہ تین ملین زائرین سے محروم ہو رہی ہے۔الیکسا’ کے مطابق گوگل کو پچھلے آٹھ برسوں سے انٹرنیٹ سرچ انجن کی دنیا میں پہلے نمبر پر رہا ہے، لیکن صارفین کے حالیہ بائیکاٹ سے کمپنی پہلے، دوسرے اور اب تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔اردن سے شائع ہونے والے ‘الدستور’ اخبار نے گوگل کی گرتی ساکھ سے متعلق اپنی رپورٹ میں مغربی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ ‘متنازعہ مواد’ بلاک نہ کرنے کے باعث گوگل کو یومیہ تقریبا تین ملین صارفین کی کمی کا سامنا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں نے گوگل سرچ انجن کا متبادل تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ گوگل کی مقبولیت میں تیزی سے کمی کا فائدہ کمپنی سے کاروباری مسابقت رکھنے والے سرچ ...