نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے چاہے عہدہ اور پوزیشن کچھ بھی ہو


کراچی (ثناء نیوز ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے چاہے عہدہ اور پوزیشن کچھ بھی ہو عدالتیں ملکی آئین کے تابع ہیں عدلیہ کو اختیارات ملکی آئین نے دے رکھے ہیں عدالتی حکم نہ ماننے پر چیف ایگزیکٹو کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا آئین کی پیروی ہونی چاہیے نتائج کچھ بھی ہوں کسی فرد واحد کا وجود نظام کی بقاء کے لیے اہمیت نہیں رکھتا مشرف کی جانب سے تین نومبر 2007 کو لگائی گئی ایمر جنسی کوئی اہمیت نہیں رکھتی مجوزہ قانون سازی پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ماضی میں عدالتیں آئین سے متصادم قانون سازی کو کالعدم قرار دے چکی ہیں عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں وکلاء کو لائسنس جاری کر نے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ آرٹیکل دو اے عدلیہ کی آزادی کی ضمانت ہے جبکہ عدلیہ کی آزادی کا تحفظ وکلاء اور ججز کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا میں پارلیمنٹ کی بالادستی کا نظریہ دم توڑ رہا ہے جبکہ آئین کی پاسداری کا نظریہ فروغ پا رہا ہے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی بھی وکیل کا سب سے بڑا خواب سپریم کورٹ کا وکیل بننا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے کہ عدالت وکلاء کو اپنی مدد کے لیے طلب کرتی ہے اور ان کی قانونی معاونت کے نتیجہ میں ایسے فیصلے آتے ہیں جو مستقبل میں نظیر بنتے ہیں اور مستقبل میں ایک گائیڈ لائن کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں آزاد عدلیہ ضروری ہے آرٹیکل دو آزاد عدلیہ کی ضمانت دیتا ہے اس کی ذمہ داری ججز پر عائد ہو تی ہے جنہوں نے آئین کے تحفظ اور اس پر عمل کا حلف اٹھایا اور دوسرا شعبہ وکلاء کا ہے جنہوں نے عدلیہ کی آزادی کے لیے قربانیاں دی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کی حفاظت وکلاء کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل پانچ کے تحت ہر شخص ریاس تکے ساتھ وفاداری اور قانون پر عمل کا پابند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین پر عملدر آمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ وکلاء ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے وکلاء کا کردار سب سے اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات میں کوئی دوسری رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ ملک کا آئین سپریم نہیں اس بات کو سپریم کورٹ کی جانب سے کئی فیصلوں میں واضح کیا گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ سے ہم نے نظام حاصل کیا اور وہاں بھی اب یہ نظریہ پروان چڑھ رہا ہے کہ آئین پارلیمنٹ سے سپریم ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چند روز قبل ہم نے فیصلہ دیا کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو نے عدالتی حکم کی پاسداری نہیں کی اور توہین عدالت کی جس کی وجہ سے عدالت نے کاروائی کی اور چیف ایگزیکٹو کو اپنے عہدہ سے ہاتھ دھونا پڑے اور انہیں 63 ون جی کے تحت نا اہل قرار دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کے فیصلہ پر عملدر آمد نہ کر نے کے سپیکر قومی اسمبلی کے فیصلہ پر درخواستیں میری سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنیں اس فیصلہ میں جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس جواد خواجہ نے اضافی نوٹ لکھے ۔ جسٹس جواد خواجہ نے لکھا کہ اب برطانیہ میں بھی یہ نظریہ آئین سپریم نہیں اور کچھ اور ادارے سپریم ہیں اب یہ نظریہ قبول نہیں کیا جا رہا ۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے چاہے کسی کا عہدہ اور پوزیشن کچھ بھی ہو ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نظریہ ضرورت کو ختم کر دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کے اقدامات جو انہوں نے 26 اپریل سے 19 مئی کے درمیان کیے ہم نے غیر قانونی قرار دیا اور حکم دیا کہ انہیں پارلیمنٹ سے منظور کروایا جائے ورنہ ان کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سندھ ہائی کورٹ بار کی درخواست پر پرویز مشرف کے ایمر جنسی پلس اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں آزاد عدلیہ کی ضمانت دی گئی ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق سے متصادم کئی قوانین کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے ختم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آئین ہی ہے جس پر عمل کرنا ہے جس کی حفاظت کرنی ہے اور جسے محفوظ بنانا ہے۔ واضح رہے کہ اس موقع پر16وکلاء کو سپریم کورٹ کی وکالت کے لائسنس دیئے گئے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں،ملکی اورغیرملکی شہری پرریاست کے آئین اورقوانین کی پاسداری لازم ہے،آئین اورقانون کاتحفظ کیاجائے گا.انہوں نے کہا کہ آئین سے متصادم اقدامات کواعلی? عدلیہ ختم کرتی رہی ہے،اعلی? عدلیہ واضح فیصلہ دے چکی ہے،سپریم صرف آئین ہے،یہ آئین ہی ہے جس پرعمل کرنا،حفاظت کرنااورپیروی کرناہے،آئین نے ہی اعلی? عدلیہ کو اختیارات دے رکھے ہیں اورعدلیہ کی آزادی پرکوئی سمجھوتانہیں ہوگا.چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کہا کہ پرویزمشرف نے نومبر2007کوملک میں ایمرجنسی نافذکی تھی ۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی عدلیہ پر بالا دستی کا کوئی جواز نہیں ۔توہین عدالت پر ملک کے چیف ایگزیکٹو کو عہدے سے ہاتھ دھونے پڑے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کے تمام شہریوں کے لیے قانون یکساں ہے۔ انہوں نے کہاکہ نظام کی بقا کے لیے کوئی بھی فرد ناگزیر نہیں۔ ملک میں عدلیہ آزاد ہونی چاہیے۔آرٹیکل دو اے عدلیہ کی آزادی کا ضامن ہے۔ انہوں نے کہاکہ عدلیہ کی آزادی کا تحفظ وکلا اور ججوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ ahs-zs-ah 

تبصرے