لاہور ہائی کورٹ نے ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز کو فوری طور پر ان ڈور اور آؤٹ ڈور سروسز کھولنے کا حکم دیا
لاہور (ثناء نیوز ) لاہور ہائی کورٹ نے ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز کو فوری طور پر ان ڈور اور آؤٹ ڈور سروسز کھولنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ینگ ڈاکٹرز کو جاری کیے گئے شو کاز نوٹسز اور پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے تبادلوں کے احکامات بھی منسوخ کر دیئے جبکہ عدالت نے معاملہ کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جو اپنی رپورٹ رپورٹ دو ہفتوں میں جمع کرائے گی جبکہ عدالت نے قرار دیا کہ قتل کے الزام میںگرفتار چار ڈاکٹروں کا معاملہ قانون کے مطابق حل کیا جائے گا گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز الحسن نے ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی ۔دوران سماعت ینگ ڈاکٹرز کی قیادت اور سیکرٹری صحت پنجاب عدالت میں موجود تھے دوران سماعت ینگ ڈاکٹرز کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ جمعہ کو عدالتی حکم کے بعد بھی مقدمہ ڈاکٹرز کو حکومت کی جانب سے نوٹس موصول ہوئے ہیں۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ینگ ڈاکٹرز کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح ججوں کا سروس اسٹرکچر ہے اسی طرح کا سروس اسٹرکچر ڈاکٹروں کو بھی دیا جائے جبکہ پنجاب حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ ینگ ڈاکٹرز کو شو کاز نوٹسز اور ان کی برطرفیاں مسلسل غیر حاضر ی کے باعت قانون کے تحت کیں۔وکیل کا مزید کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے ڈاکٹروں کو حراساں نہ کرنے سے متعلق حکم سے تمام اداروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کے خلاف قتل کا مقدمہ حکومت نے نہیں بلکہ بچے کے والد نے کرایا ہے جسٹس اعجاز الحسن کا کہنا تھا کہ حکومت ہو یا ینگ ڈاکٹرز سب کا حساب ہو گا۔ڈاکٹرز کی برطرفی اور نوٹسز پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ڈاکٹرز کے خلاف غیر قانونی کارروائی نہیں کرنے دی جائے گی جبکہ درخواست کا موقف تھا کہ معاملہ انتہائی حساس اور انسانی جانوں کے ضیاع کا ہے اس لیے اس کیس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔جسٹس اعجاز الحسن کا کہنا تھا کہ مار پیٹ سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا ہر مسئلہ کا حل بات چیت اور مذاکرات میں ہے۔ڈاکٹرز اور حکومت خیر سگالی کا مظاہرہ کر یں سماعت کے بعد عدالت نے اپنے حکم میں ینگ ڈاکٹرز کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ ہسپتالوں میں تمام سروسز کل(پیر) صبح نو بجے تک کھول دیں عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے ڈاکٹروں کی برطرفی اور شو کاز نوٹسز کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا اور حکومت کو اس طرح کے مزید نوٹسز جاری کرنے سے روک دیا ہے ۔عدالت نے قرار دیا کہ وہ ڈاکٹروں کے خلاف انتقامی کارروائیاں روک رہی ہے اور پیر کی صبح تک ہسپتالوں کے تمام شعبے کھل جانے چاہیں۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ہسپتالوں میں زیر علاج ڈاکٹروں کو علاج کی مکمل سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ عدالت نے قرار دیا کہ کہ قتل کے الزام میں گرفتار چار ڈاکٹرز کا معاملہ قانون کے مطابق حل کیاجائے گا۔ جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز اور حکومت کے درمیان مذاکرات وہیں سے شروع کیے جائیں جہاں پر ختم ہوئے تھے عدالت نے کہا کہ پہلے سے قائم شدہ کمیٹی کام شروع کرے اور دو ہفتوں میں اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے ۔واضح رہے کہ عدالت نے جمعہ کے روز ینگ ڈاکٹرز کو ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروس بحال کرنے کا حکم دیا کہ تھا عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل (پیر) تک ملتوی کر دی۔
تبصرے