نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

برطانیہ کے امیگریشن نظام میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی تبدیلیوں پر عمل درآمد پیر کے روز سے شروع ہوگیا ہے


لندن(ثناء نیوز ) برطانیہ کے امیگریشن نظام میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی تبدیلیوں پر عمل درآمد پیر کے روز سے شروع ہوگیا ہے۔ ان نئے قوانین کے تحت اپنی اہلیہ یا خاوند کو برطانیہ لانے کے لئے برطانوی شہری کی تنخواہ کی حد میں 7ہزار پونڈ سے زیادہ اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ ویزے کی عبوری مدت بڑھا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سٹوڈنٹس ویزوں پر برطانیہ آنے والوں کے لئے اضافی سخت انٹرویوز اور وزٹ ویزوں کو مسترد کئے جانے کے بعد اپیل کے حق کو محدود کرنے کے قوانین کا بھی اطلاق ہوگیا ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے غیر یورپی سٹوڈنٹس کی تعداد کو کم کرنے کے سلسلے میں اپنی حکومت کا موقف تبدیل کرتے ہوئے لبرل ڈیموکریٹس کے موقف کی تائید کی ہے۔ ان تبدیلیوں سے خاص طورپر پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک کے خاندانوں پر اثرات مرتب ہوں گے۔ ہوم سیکرٹری تھریسامے نے غیر یورپی بیویوں کے برطانیہ آنے کے سلسلے میں قوانین کو سخت کرتے ہوئے بیرونی ممالک سے بیوی کو یا شوہر کوبلانے والے برطانوی مرد یا خاتون شہری کی تنخواہ کی حد ساڑھے تیرہ ہزار پونڈ سالانہ سے بڑھا کر 18 ہزار چھ سو پونڈ سالانہ کردی ہے۔ جبکہ ایک بچے والی فیملی کے لئے تنخواہ کی حد 22 ہزار چار سو پونڈ اور اس کے بعد ہر اضافی بچے کے لئے مزید 24 سو پونڈ سالانہ کی حد تک رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ غیر یورپی ممالک سے آنے والی بیوی یا خاوند کے عبوری ویزے کی حد دو سال سے بڑھ کر 5 سال کردی گئی ہے اور یہ مدت پوری ہونے کے بعد ہی وہ غیر معینہ مدت کے ویزے کے لئے درخواست دے سکیں گے۔ اس سے قبل غیر ملکی خاوند یا اہلیہ چار سال کے اندر اندر ہی برطانوی شہری بن جاتے تھے۔ اب عبوری مدت 5 سال کی ہوگی۔ اس طرح غیرملکی اہلیہ یا خاوند کا فوری طورپر برطانیہ میں مستقل سکونت اختیارکرنا ممکن نہیں رہے گا۔ اس کے علاوہ 2013 سے برطانیہ میں مستقل طورپر قیام کے لئے آنے والوں کے لئے لائف ان یو کے سٹیٹ میں تبدیلیوں پر بھی عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ تھریسامے نے ان تبدیلیوں کا اعلان گیارہ جون 2012 کو کیا تھا۔حکومت نے امیگریشن اپیلز ( فیملی وزیٹر) کے قواعد میں بھی تبدیلی کی ہیں جن پر پیر کے روز سے عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔ان قواعد میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کن افرادکے ویزوں کو مسترد کیا جاسکتا ہے ان تبدیلیوں کے نتیجے میں اگر کوئی اپنے چچا چچی، بھتیجا بھتیجی، فرسٹ کزن یا کسی ایسے رشتہ دار کے پاس وزٹ کرنا چاہتا ہے جو برطانیہ میں مستقل سکونت نہ رکھتا ہو۔آباد کار ہو یا انسانی بنیادوں پر تحفظ میں رہتا ہو اس کے ویزے کو مسترد کئے جانے کے بعد اس کو اپیل کرنے کا مکمل حق حاصل نہیں ہوگا تاہم انسانی حقوق اور نسلی امتیاز کی بنیادوں پر وزیٹر ویزے کے لئے اپیل کامحدود حق برقرار رہے گا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔   Ehtasabi Amal Lahore احتسابي عمل لاھور

امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستانمیں رکے ہوئے کنٹینرز کی جلد روانگی کے لیے تکنیکی امور پر اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں

واشنگٹن(ثناء نیوز ) امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستان میں رکے ہوئے کنٹینرز کی جلد روانگی کے لیے تکنیکی امور پر اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دیئے جانے والے کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کے طریقہ کار میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان جان ایف کربی کا کہنا تھا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کا اپنا طریقہ کار ہے اور میڈیا پر آنے والی ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ فنڈ کی فراہمی کے طریقے کو نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد تبدیل کیا جارہا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے فنڈز کا مطالبہ 2011میں کیا گیا تھا اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 2002 سے پاکستان کیلئے آٹھ اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر جاری کئے جاچکے ہیں اور آخری قسط دسمبر 2010 میں چھے سو تینتیس ملین ڈالر کی جاری کی گئی تھی۔ پنٹاگون کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اتحادی سپورٹ فنڈ کے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر ضابطے کی کارروائی کے بعد ادا کیے جائیں گے. واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کیپٹن جان کربی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے...

انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے

عمان (ثناء نیوز ) انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یو ٹیوب سے گستاخانہ فلم نہ ہٹانے پر گوگل کے بائیکاٹ کی وجہ سے کمپنی کو رینکنگ میں پہلے نمبر سے تیسرے پر آ گئی ہے۔ سائبر اسپیس پر حکمرانی کرنے والی گوگل کمپنی یومیہ تین ملین زائرین سے محروم ہو رہی ہے۔الیکسا’ کے مطابق گوگل کو پچھلے آٹھ برسوں سے انٹرنیٹ سرچ انجن کی دنیا میں پہلے نمبر پر رہا ہے، لیکن صارفین کے حالیہ بائیکاٹ سے کمپنی پہلے، دوسرے اور اب تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔اردن سے شائع ہونے والے ‘الدستور’ اخبار نے گوگل کی گرتی ساکھ سے متعلق اپنی رپورٹ میں مغربی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ ‘متنازعہ مواد’ بلاک نہ کرنے کے باعث گوگل کو یومیہ تقریبا تین ملین صارفین کی کمی کا سامنا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں نے گوگل سرچ انجن کا متبادل تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ گوگل کی مقبولیت میں تیزی سے کمی کا فائدہ کمپنی سے کاروباری مسابقت رکھنے والے سرچ ...