نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا کہ پنجاب کی معیشت میں زراعت کوبنیادی اہمیت حاصل ہے اور یہ شعبہ ملکی معیشت کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔پنجاب کی زرعی برآمدات کو 2014 تک 2 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے


لاہور (ثناء نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا کہ پنجاب کی معیشت میں زراعت کوبنیادی اہمیت حاصل ہے اور یہ شعبہ ملکی معیشت کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔پنجاب کی زرعی برآمدات کو 2014 تک 2 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کیلئے پنجاب کے کسانوں کو زرعی مصنوعات بڑھانے کیلئے جدید تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ کسانوں کو روایتی طریقہ کار چھوڑ کر جدت کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھا کر کثیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ کاشتکاروں کی استعدادکار بڑھانے کیلئے مربوط حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ وہ یہاں زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ سٹار فارم کمپنی کے مسٹر ہینس پیٹر (Mr. Hans Peter)، ایم سی سی کے ریجنل ہیڈ ٹائینو زیسکے (Mr. Tino Zeiske)، ایم ڈی ایم سی سی ڈیوڈ بونر(Mr. David Bonar)، ایم پی اے رانا محمد افضل خان، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، خزانہ، لائیوسٹاک اور زراعت کے سیکرٹریز کے علاوہ متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں زراعت کو جدید خطوط پر استوارکرکے قیمتی زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں اس شعبے کی طرف خاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی۔ پاکستان کے پاس دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام موجود ہے اور یہ دنیا کا دودھ پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک بھی ہے اس کے باوجود بین الاقوامی زرعی معیشت میں پاکستان کا حصہ بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹار فارم کمپنی اجناس کو محفوظ بنانے اور ان کی عالمی منڈی میں برآمدات کے شعبے میں بین الاقوامی شہرت کا حامل ادارہ ہے۔ پنجاب حکومت اور سٹار فارم کے اشتراک سے پہلی بار صوبے کی زرعی مصنوعات کو عالمی منڈی میں متعارف کرانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ زرعی اجناس کی سپلائی کے ساتھ کھیت سے منڈی تک کا نظام بہتر بنایا جا رہا ہے۔ برآمدات میں اضافے کیلئے بیرون ملک زرعی مصنوعات کی نمائشیں لگائی جائیں گی۔ اس سلسلے میں گزشتہ برس جرمنی میں پنجاب کی زرعی مصنوعات کی نمائش کی گئی تھی۔وزیراعلیٰ نے اس امید کا اظہار کیا کہ یورپی یونین کی مارکیٹ تک رسائی کی سہولت ملنے سے زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ زرعی اجناس کی برآمدات میں اضافے سے لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایسا میکنزم اختیار کیا جائے جس سے زرعی اجناس کی پیداوار میں مسلسل اضافے کو برقرار رکھا جاسکے۔ وزیراعلیٰ کو سٹار فارمز کے مسٹر ہینس پیٹر نے سٹار فارمنگ کے بارے تفصیلی بریفنگ دی#



Ehtasabi Amal Lahore احتسابي عمل لاھور

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔   Ehtasabi Amal Lahore احتسابي عمل لاھور

امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستانمیں رکے ہوئے کنٹینرز کی جلد روانگی کے لیے تکنیکی امور پر اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں

واشنگٹن(ثناء نیوز ) امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستان میں رکے ہوئے کنٹینرز کی جلد روانگی کے لیے تکنیکی امور پر اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دیئے جانے والے کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کے طریقہ کار میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان جان ایف کربی کا کہنا تھا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کا اپنا طریقہ کار ہے اور میڈیا پر آنے والی ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ فنڈ کی فراہمی کے طریقے کو نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد تبدیل کیا جارہا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے فنڈز کا مطالبہ 2011میں کیا گیا تھا اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 2002 سے پاکستان کیلئے آٹھ اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر جاری کئے جاچکے ہیں اور آخری قسط دسمبر 2010 میں چھے سو تینتیس ملین ڈالر کی جاری کی گئی تھی۔ پنٹاگون کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اتحادی سپورٹ فنڈ کے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر ضابطے کی کارروائی کے بعد ادا کیے جائیں گے. واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کیپٹن جان کربی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے...

Solar power is a clean energy source. But in this arid part of northwest India it can also be a dusty one.

KHADODA, India — Solar power is a clean energy source. But in this arid part of northwest India it can also be a dusty one. Lanterns Are a Ready Example of Solar Power’s Potential (December 29, 2011) Every five days or so, in a marriage of low and high tech, field hands with long-handled dust mops wipe down each of the 36,000 solar panels at a 63-acre installation operated by Azure Power. The site is one of the biggest examples of India’s ambitious plan to use solar energy to help modernize its notoriously underpowered national electricity grid, and reduce its dependence on coal-fired power plants. Azure Power has a contract to provide solar-generated electricity to a state-government electric utility. Inderpreet Wadhwa, Azure’s chief executive, predicted that within a few years solar power would be competitive in price with India’s conventionally generated electricity. “The efficiency of solar technology will continue to increase, and with the increasing demand in solar energy...