)سپریم کورٹ کے کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پتہ قیدیوں کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے

اسلام آباد (ثناء نیوز)سپریم کورٹ کے کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پتہ قیدیوں کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے، ہر چیز کی کوئی حد ہوتی ہے، بتایا جائے کہ قیدیوں کو کس بنیاد پر حراست میں رکھا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ آئین بنیادی حقوق کا تحفظ دیتا ہے اس سے بڑا کوئی قانون نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیارہ میں سے چار قیدی مرچکے ہیں جبکہ باقی میں سے بھی چار شدید بیمار ہیں، اگر انہیں کچھ ہوگیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔ پیر کواڈیالہ جیل سے قیدیوں کے اغوا اور قتل سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سر براہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا معاملہ حل کرنے کے لیے حکومت کو منگل تک کی مہلت دے دی۔ قیدیوں کو حراستی مراکز بھیجنے پر آئی ایس آئی سے وضاحت طلب کر لی گئی ہے۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ غیرمعینہ مدت کے لیے کسی کو حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔ دوران سماعت آئی ایس آئی کے وکیل راجہ ارشاد کا کہنا تھا کہ قیدی متعلقہ حکام کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے خلاف ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باعث کورٹ مارشل نہیں کیا گیا۔ ان کے خلاف قانونی نہیں مگر اخلاقی شواہد موجود تھے۔ قیدیوں کے خلاف نئے قانون کے تحت کارروائی کی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ کل مجھے اور آپ کو بھی اخلاقی شواہد کی بنا پر جیل میں ڈال دیا جائے جب ان قیدیوں کے خلاف کچھ نہیں تو یہ جیل میں کیوں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت کوئی اس کا جواب نہیں دے رہا۔ عدالت قیدیوں کو مارنے کی اجازت نہیں دے سکتی ۔ان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل قیدیوں کے کیس میں شخصی آزادی کا سوال ہے۔ دسمبر 2010 کو کہا گیا کہ ان قیدیوں کو فوج نے قبائلی علاقوں سے دہشت گردی کرتیہوئے پکڑا ۔فوج نے ان قیدیوں کا ٹرائل بھی نہیں کیا۔ چار قیدی مر چکے اور چار بیمار ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟ غیرمعینہ مدت کے لیے کسی کو حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔ اڈیالہ جیل کے قیدیوں کوغیرقانونی قید میں رکھنے والے افسرکا نام بتایا جائے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قیدیوں سے متعلق حکومت کل تک فیصلہ کرے ورنہ ہم کریں گے۔ صبح سب سے پہلے یہ معاملہ اٹھایا جائے گا اگر ان کی قیدغیرقانونی ثابت ہوئی تو قانون حرکت میں آجائے گا۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ کسی کو ہوش نہیں اور نہ نیت ہے کہ دہشت گردوں کو سزا کے خلاف قانون سازی کی جائے۔ سپریم کورٹ نے قیدیوں کو حراستی مراکز بھیجنے پر آئی ایس آئی سے وضاحت طلب کرلی ۔عدالت نے سیکریٹری فاٹا اور سیکریٹری خیبرپختونخوا کو بھی طلب کر لیا۔ دوران سماعت ایجنسیوں کے وکیل راجہ ارشاد نے کہا کہ قانون موجود ہے اس کے تحت قیدیوں کوحراست رکھا گیا۔جسٹس افتخار نے کہا کہ بندے مارنے کے لیے تحویل میں نہیں دیے جاتے، آپ یا تو قیدیوں کا ٹرائل کرلیں، یا انہیں رہا کریں۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل دل محمد علی زئی سے استفسار کیا کہ وفاق بتائے،ان قیدیوں کے خلاف کیا ثبوت ہے، نہ وفاقی حکومت، نہ خفیہ ایجنسی، نہ ہی خیبرپختونخوا حکومت جواب دے رہی ہے۔چیف جسٹس نے راجہ ارشاد سے کہا کہ یہ تماشہ نہیں ہونا چاہئیے، آپ ہمیں جوابدہ ہیں، دو ہزار چھ سے قیدی آپ کے پاس ہیں، اتنے عرصے سے ان کے خلاف کیا کارروائی کی۔اس پر راجہ ارشاد نے کہا کہ ایجنسیاں اخلاقی طور پر قائل ہیں، ان قیدیوں نے دہشتگرد سرگرمیوں میں حصہ لیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اخلاقی طور پر قائل ہو کر آپ کو اور مجھ کو بھی جیل میں رکھا جاسکتا ہے۔راجہ ارشاد نے کہا کہ مطلوبہ شواہد نہ ہونے کی وجہ سے ان قیدیوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلایا۔جسٹس گلزار نے کہا کہ شہادت نہیں تو انہیں رہا کردیا جائے۔راجہ ارشاد نے کہا کہ ایجسنیز کسی بے گناہ شخص کو نہیں اٹھاتیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے نزدیک تو ہر شخص بے گناہ نہیں۔جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ حراست ایک وقت کیلیے ہوتی ہے لامحدود مدت کے لیے نہیں ہوتی۔چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کاغذات گھر دیکھ کر آیا کریں عدالت میں جواب دیں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل علی محمد زئی نے کہا کہ ان قیدیوں کے خلاف شواہد موجود ہیں، جب کسی کو حراست میں رکھا جائے، تو اس کے حوالے سے 130 دن میں جائزہ لیا جاتا ہے۔اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر شواہد موجود ہیں تو ان کا ٹرائل کیوں نہیں کیا جا رہا، حراستی مرکز والے تو ٹرائل بھی نہیں کرتے۔عدالت نے ہر 120 دن کے بعد کی تمام جائزہ رپورٹیں طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام فریقین مل کر ان قیدیوں کے معاملہ سے متعلق منگل کی صبح ساڑھے نو بجے تک جواب دیں۔خفیہ ایجنسیوں کے وکیل راجہ ارشاد نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو بتایا ہے کہ اڈیالہ جیل سے لاپتہ ہونے والے 11 قیدی دہشت گردی میں ملوث رہے۔راجہ ارشاد نے کہا کہ حراستی مراکز قانون کے تحت قائم کئے گئے ہیں ایجنسیاں کسی معصوم کو نہیں اٹھاتیں چیف جسٹس نے کیس میں حکومت کی عدم دلچسپی پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ڈانٹ پلا دی انہوں نے کہا کہ آج ( منگل ) کو صرف یہی کیس سنا جائے گا ۔ راجہ ارشاد نے بتایا کہ ان افراد کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت نہین کیا گیا ن کا کہنا تھا کہ خفیہ ادارے اخلاقی طور پر متفق ہیں کہ یہ افراد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں ۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر کل مجھے اور آپ کو بھی اخلاقی طور پر متفق ہو کر جیل میں رکھ سکتے ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو ببانگ دہل کہتے ہیں کہ ان کے خلاف ثبوت ہیں تو بتائیں اگر زیر حراست قیدیوں کے خلاف ثبوت نہیں تو انہیں رہا کیا جائے ۔ ۔

Ehtasabi Amal Lahore احتسابي عمل لاھور Click on Ehtasabi Amal Facebook How good is life in this world for a believer because he uses it to prepare his provisions for Paradise. And how evil it is for a disbeliever who uses it to prepare his provisions for Hell - Hasan al-Basri [not a hadith]

تبصرے