کراچی (ثناء نیوز ) کراچی کے مختلف علاقوں میں تشدد اور فائرنگ کے واقعات میں مزید 9 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹے میں جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہو گئی ۔ پولیس کے مطابق رات گئے سپر ہائی وے کے نزدیک گڈاب ٹاؤن کے علاقہ ناگوری ٹاپ کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے تین افراد کو قتل کر دیا نعشوں کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا بلدیہ میں چاندنی چوک کے علاقہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا جبکہ بغدادی تھانہ کی حدود سے دو افرد کی نعشیں ملی ہیں مقتولین کو اغواء کے بعد تشدد اور فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ۔ پولیس کے مطابق مقتولین کی شناخت آصف اور ایوب کے نام سے ہوئی ہے جبکہ گلستان جوہر میں رابعہ سٹی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا ۔ مقتول کی عمر 25 سے 30 سال کے درمیان بتائی جاتی ہے جبکہ بلدیہ ٹاؤن کے علاقہ سے بھی ایک سخص کی نعش برآمد ہوئی جبکہ ایک شخص کی نعش کھارا در کے علاقہ سے بھی برآمد ہوئی کھوکھر پار کے علاقہ سے ایک خاتون کی نعش برآمد ہوئی ۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پرتشدد واقعات میں کراچی کے مختلف علاقوں میں سات افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے ادارے پرتشدد واقعات میں ملوث کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔دوسری طرف قائم مقام ایڈیشنل آئی جی غلام شبیر شیخ نے کہا ہے کہ شہر میں ہنگامے کی آڑ میں املاک جلانے شہریوں پر اسلحہ تانے پر شرپسندوں کو موقع پر ہی مار دیا جائے گا۔1992کے آپریشن میں جرائم پیشہ عناصر کو مارا گیا تھا۔پہلے کبھی سیاسی دباؤ قبول کیا ہے اور نہ آئندہ کبھی کرونگا اگر کسی کو کام پسند نہیں آیا تو تبادلہ ہو جائیگا۔پولیس افسران دفاتر میں بیٹھ کر اجلاس میں شرکت کرنے کے بجائے عوام کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔ان خیالا ت کا اظہار انہوںنے گزشتہ روز ایس ایس پی ساؤتھ کے دفتر میں 24گھنٹوں کے دوران شہر میں ہونے والی ہلاکتوںپر بریفنگ دے رہے تھے ۔اس مو قع پر ایس ایس پی ساؤتھ آصف اعجاز شیخ بھی موجود تھے ۔قائم مقام ایڈیشنل آئی جی غلام شبیر کا کہنا تھا کہ ہفتے کو 13افراد قتل کیے گئے ہیں جن میں سے 5افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی ہے 5مقتولین کی شناخت نہیں ہو سکی ہے جبکہ 3افراد ذاتی دشمنی کی بنیاد پر مارے گئے۔انہوںنے بتایا کہ گلستان جوہر میں لیاقت بنگش قانون نافذ کرنے والے ادارے کے خوف سے اونچائی سے چھلانگ لگا مارنے سے ہلاک ہوا، وہ ایک جرائم پیشہ شخص تھا۔ اس واقعہ کے بعد جب پولیس وہاں پہنچی تو ان پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پولیس افسر کسی شہری پر جھوٹا مقدمہ درج کریگا تو اسی مقدمے میں مقدمہ درج کرنے والے افسر کا چالان عدالت میں پیش کیا جائیگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن میں جرائم پیشہ عناصر کو مارا گیا تھا تاہم اس کے بعد پولیس افسران کے تحفظ کے لیے بہتر حکمت عملی نہیں اپنائی گئی ہے تاہم اب جو پولیس افسران ٹارگٹڈ کارروائیاں کرینگے ان کا مقامی پولیس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور وہ صرف اپنے ٹارگٹ پر کام کرینگے۔صحافیوں کے سوالات کو جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملزمان کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم اس لئے دیا کہ اس سے جرائم میں کمی آتی ہے، کسی بھی واقعے کے بعد ہنگامے کی کوشش کی گئی یا املاک جلائی گئیں تو شرپسندوں کو موقع پر مار دیا جائے گا۔کراچی میں امن و امان قائم کرنے کے لیے افسران کو دفاتر میں بیٹھ کر اجلاسوںمیں شرکت کرنے کے بجائے شہریوں کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر آنا ہو گا اور شہریوں کے ساتھ بہتر رویہ رکھنا ہو گا۔
چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔ Ehtasabi Amal Lahore احتسابي عمل لاھور
تبصرے