نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سپریم کورٹ آف پاکستان نے دوہری شہریت رکھنے والے اراکین کے خلاف دائر مقدمہ کی سماعت کے دوران عبوری حکم جاری کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی سینٹ کی رکنیت معطل کر دی ہے


اسلام آباد (ثناء نیوز )سپریم کورٹ آف پاکستان نے دوہری شہریت رکھنے والے اراکین کے خلاف دائر مقدمہ کی سماعت کے دوران عبوری حکم جاری کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی سینٹ کی رکنیت معطل کر دی ہے جبکہ اسی نوعیت کے ایک اور مقدمہ میں عدالت نے دیگر 14 اراکین پارلیمان ، ایم پی ایز کو نوٹس بھی جاری کر دئیے ہیں ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے پیر کو اراکین پارلیمان کی دوہری شہریت کے خلاف کراچی کے شہری محمود اختر نقوی کی جانب سے دائر مقدمہ کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت اراکین پارلیمان کو معطل یا نا اہل نہیں کر سکتی یہ معاملہ انتظامیہ کو بھیجا جائے ۔عدالت نے عبوری حکم میں قرار دیا ہے کہ رحمان ملک سے متعدد بار برطانوی شہریت چھوڑنے کا تصدیقی سرٹیفیکیٹ طلب کیا گیا تاہم وہ پیش نہیں کیا گیا اور رحمان ملک کی جانب سے غیر واضح دستاویزات عدالت کو فراہم کی گئیں جو دستاویزات دی گئیں ان میں پہلے برطانوی شہریت چھوڑنے کی تاریخ پہلے مارچ اور پھر اپریل 2008 ء بتائی گئی عدالت نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بادی النظر میں رحمان ملک اس وقت برطانوی شہری تھے جب انہوں نے سینٹ کی رکنیت کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور بادالنظر میں رحمان ملک اس وقت انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں تھے ۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 63 واضح طور پر کہتا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والا انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا اور رحمان ملک کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے دونوں خطوط سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے پاس برطانوی شہریت چھوڑنے کا ڈکلریشن موجود نہیں ہے اس لیے ان کی رکنیت معطل کی جاتی ہے ۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر آئندہ سماعت تک رحمان ملک واضح دستاویزات پیش کر دئیے ہیں تو ان کی رکنیت بحال کی جا سکتی ہے ۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ رحمن ملک نے تصدیقی سرٹیفکیٹ حاصل کرل یا ہو لیکن عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ دوران سماعت وحید انجم ایڈووکیٹ نے مقدمہ میں فریق بننے کی درخواست دی جسے عدالت نے قبول کر لیا ۔ وحید انجم نے دوہری شہریت کے حامل ناموں کی نئی فہرست عدالت میں پیش کی ۔ وحید انجم نے اپنی درخواست مین دعویٰ کیا کہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ صابر علی بلوچ ، وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ ، ( ن ) لیگ کے رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف ، ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی فرحت محمد خان ، پی پی کے رکن صوبائی اسمبلی طارق محمود ، ( ن ) لیگ کی رکن قومی اسمبلی انوشہ رحمان ، ( ن ) لیگ کے رکن صوبائی اسمبلی اخلاق احمد اور اشرف چوہان ، ایم کیو ایم کی رکن سندھ اسمبلی نادیہ گبول جبکہ احمد علی شاہ ، آمنہ بٹر ، وسیم قادر ، ندیم خادم اور ایم این اے زاہد اقبال دہری شہریت رکھتے ہیں ۔ عدالت نے رحمان ملک کی جانب سے برطانیہ کی دہری شہریت نہ چھوڑنے پر برہمی کا اظہار کیا ۔ رحمان ملک کے ایڈووکیٹ ریکارڈ نے استدعا کی تاہم عدالت نے ایک گھنٹے کا وقت دیتے ہوئے دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ جس کے بعد بھی دستاویزات عدالت میں پیش نہیں کی گئیں۔ واضح رہے کہ اس مقدمہ میں امریکہ میں سابق سفیر حسین حقانی کی اہلیہ فرح ناز اصفہانی کی رکنیت قومی اسمبلی میں گزشتہ سماعت پرمعطل کردی گئی تھی۔ ۔ # 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا۔   Ehtasabi Amal Lahore احتسابي عمل لاھور

انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے

عمان (ثناء نیوز ) انٹرنیٹ کی ٹریفک رینکنگ پر نظر رکھنے والے پورٹل ‘الیکسا’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلمان ملکوں میں معروف سرچ انجن گوگل اور اس کی ملکتی یو ٹیوب کے بائیکاٹ نے کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یو ٹیوب سے گستاخانہ فلم نہ ہٹانے پر گوگل کے بائیکاٹ کی وجہ سے کمپنی کو رینکنگ میں پہلے نمبر سے تیسرے پر آ گئی ہے۔ سائبر اسپیس پر حکمرانی کرنے والی گوگل کمپنی یومیہ تین ملین زائرین سے محروم ہو رہی ہے۔الیکسا’ کے مطابق گوگل کو پچھلے آٹھ برسوں سے انٹرنیٹ سرچ انجن کی دنیا میں پہلے نمبر پر رہا ہے، لیکن صارفین کے حالیہ بائیکاٹ سے کمپنی پہلے، دوسرے اور اب تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔اردن سے شائع ہونے والے ‘الدستور’ اخبار نے گوگل کی گرتی ساکھ سے متعلق اپنی رپورٹ میں مغربی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ ‘متنازعہ مواد’ بلاک نہ کرنے کے باعث گوگل کو یومیہ تقریبا تین ملین صارفین کی کمی کا سامنا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں نے گوگل سرچ انجن کا متبادل تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ گوگل کی مقبولیت میں تیزی سے کمی کا فائدہ کمپنی سے کاروباری مسابقت رکھنے والے سرچ ...