پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم میاںمحمد نواز شریف نے کہا ہے کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف اور موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے ایجنڈے میں کوئی فرق نہیں ہے
اسلام آباد (ثناء نیوز ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم میاںمحمد نواز شریف نے کہا ہے کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف اور موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے ایجنڈے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حکمرانوںکا بس چلتا تو یہ بھی عدلیہ کو گرفتار اور ججزکو نظر بند کردیتے ۔نواز شریف نے سابق وزیراعظم کی حیثیت سے بجٹ میں مختص کی گئی مراعات کی مذمت کرتے ہوئے اسے لینے سے انکار کردیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ زندگی بھر مراعات نہیںلوںگا۔ پلاٹس اور پرمٹوں کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے ۔ بھاری قرضوں میں گھرے ہوئے ملکی حالات کو 90 دنوں میں درست کرنے کا دعویٰ کرنے والے قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ چکر بازی کر رہے ہیں ۔ جادو کی چھڑی نہیں ہوگی کہ بحرانوں کی زد میں آئے اس ملک کے حالات کو درست کردیا جائے۔ اصلاحات کے تحت ہم ہی دوبارہ پاکستان کو ایک بار پھرایشین ٹائیگر بنائیںگے ان خیالات کا اظہار انہوںنے اتوارکو اسلام آباد میں پاکستانی معیشت ، موجودہ بحران او ر پیداوار و خوشحالی کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ میاںمحمد نواز شریف نے اپنے دور کا پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی کی حکومت کے ادوار سے موزانہ کیا اور کہا کہ جمہوری حکومت کو نہ ہٹایا جاتا تو ترقی یافتہ ممالک کی صف میںشامل ہوجاتے۔بجٹ گورکھ دھندا ہے الفاظ کا ہیر پھیر ہے۔ عوام کو کچھ نہیںملا ۔ اربوں روپے عوام کو ملتے نظر نہیںآتے ۔ عوام دیکھ رہے ہیں کسی کو کچھ علم نہیں ہے کہ اربوں کھربوں کہاں جا رہے ہیں اور کون خرچ کرے گا اور عوام بھوکی مار رہی ہے ۔ لوڈشیڈنگ کے باعث تاریکیاں ہیں۔انہوںنے کہا کہ اگر یہ کوئی قابل فخر کارنامہ انجام دیتے تو یہ اپنے پانچویں بجٹ پر فخر کرسکتے تھے۔ معیشت دم توڑ رہی ہے ۔ بے روزگار بڑھ رہی ہے۔ ملک تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے ۔ بے روزگار مارے مارے پھر رہے ہیں۔ گڈ گورننس کے نام کی کوئی چیز نہیںہے ۔آبائی ذخائر سے فائدہ نہیں اٹھایا جارہا ہے ۔ بدعنوانی عروج پر ہے اور نتائج عوام کو بھگتنے پڑرہے ہیں ۔انہوں نے پانچویں بجٹ پیش کیا ، قوم کو ترقی اور خوشحالی دیتے تو ہم انہیںمزید دس سالوں کے لیے حکمران تسلیم کرتے بلکہ طشتری میں رکھ کر اقتدار پیش کرتے کہ آپ نے ملک بہتر چلایا اور آپ ہی اسے مزید چلائیں۔ انہوںنے کہا کہ آج کشکول لے کر پھر رہے ہیں ۔ قومی وقار کو مجروح کیاجا رہاہے ۔قرضوں کی موجودگی میں عوام کبھی سکھ کا سانس نہیںلے سکتی ہمارے دور میں خوشحالی عوام کے دروازے پر دستک دے رہی تھی۔ نقشہ کچھ اور تھا پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو رہا تھا۔ انہوں نے پاکستان میں ترقی کی ہوتی تو پیشیاں نہ بھگتتے ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے جو بھی پاکستان کو آگے بڑھائے گا ہم اس کا ساتھ دیں گے۔ اور کوئی آیا اور پاکستان کے جھنڈے کو آٰگے بڑھایا اور اس کے ساتھ بھی تعاون کریںگے ہمیں موقع ملا تو ہم بھی پاکستان کی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کریںگے۔ صدر ، وزیراعظم نے کچھ نہیںکیا۔ ہمارے دور میںآٹا 7 روپے 72 پیسے ، دال 22 روپے او راب اس کی قیمت 98 روپے تک پہنچ گئی ہے انہوںنے قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان بھارت کو چینی اور بجلی دینے کی پوزیشن میں آگیا تھا۔ہمیں اپنے دور پر فخرہے ۔ حکمرانوںکو امور مملکت کے حوالے سے قوم کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ہمیں بزرگوں نے یہی نصیحت کی ہے کہ غریبوںکو کبھی فراموش نہیں کرنا ۔ یہی وجہ ہے کہ خادم اعلیٰ پنجاب دن ران کام کررہے ہیں۔ بجلی کے بل متواتر آرہے ہیں ۔ ان میںکوئی کمی نہیںہے جب کہ بجلی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ واپڈا کی ناانصافیاں ، زیادتیاں عروج پر ہیں۔ پرویز مشرف نے اس ملک کے ساتھ جو کچھ کیا وہ چار سالوںمیں ان لوگوں نے ملک کے ساتھ یہی کیا ہے ۔ لوڈشیڈنگ کے بارے میں وزیراعظم اور وزیر پانی وبجلی نے کیا ٹائم فریم نہیں دیا تھا۔ یہ وعدہ کہاں گیا ۔ مونچھوں والے وزیر نے بھی کہا تھا کہ لوڈشیڈنگ جلد ختم کردیں گے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ مزید بڑھ گئی ہے۔ حکومت کو عوام کے مسائل کا ادراک نہیں ہے ۔ نہ ہی ان کے پاس کوئی ٹیم ہے اور نہ ہی کوئی دماغ ہے ۔ نہ ہی کوئی مسائل حل کرنے کی تجاویز ہے۔ بدقسمتی سے ایسے حکمرانوںکا سامنا ہے جنہیں حکومت چلانے کی اے بی سی کا پتہ نہیںہے ۔ ان کو صرف خزانہ خالی کرنے سے غرض ہے جو تیزی سے خالی ہو رہا ہے۔ ہمیں دو بار حکومت بنانے کا طعنہ دیا جا رہا ہے ۔ ہاں ہمیں یہ اقتدارملا تھا اور ہم آزمائش پر بھی پورے اترے تھے۔ دفاعی اورمعاشی طورپر ملک کی خدمت کی 1998 ء کے ایٹمی پروگراموں کے نتیجے میں سبزپاسپورٹ کی جو عزت بنی اس کی تاریخ میں مثال نہیں پیش کی جاسکتی ۔ پاکستان نمبر ون ملک بن گیا تھا۔ بھارتی وزیراعظم خود پاکستانی اصلاحات کی تعریف کررہے تھے۔ دفاعی شعبے میں بھارتی وزیراعظم نے مینار پاکستان پر کھڑے ہو کر بات چیت کا اعلان کیا۔ ہم نے عزت کا سودا کرنے والے لوگ نہیںہیں وہ پاکستان کھو گیاہے۔ جو بھارت کو بجلی دینے کے قابل تھا۔ وہ پاکستان کہاں گیا جس کی خطے میں کرنسی سب سے زیادہ مضبوط تھی ۔ بلوچستان میں قوم پرستوں نے ہمارے ہی دورمیں قومی اسمبلی میںکھڑے ہو کر کیا آئینی ترامیم پر بات نہیں کی تھی ۔ وہ پاکستان کہاں گیا خوشحالی اور ترقی کا سفر طے کررہا تھا۔ غربت کم ہو رہی تھی ،کوئی خودکش دھماکے ، انتہا پسندی نہیں تھی ،بھارت کے وزیراعظم نے پاکستان کے حق میں تقریر کی تھی انہوںنے قومی مجرم پرویز مشرف کو گارڈ آف آنر پیش کرکے رخصت کیا ۔ کسی نے کوئی واویلا نہیں کیا ۔ پرویز مشرف اور موجودہ حکمرانوں کے ایجنڈے میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ وہ کچھ کررہے ہیں جو سابق فوجی آمر کررہا تھا۔ موجودہ حکمرانوں کا بس چلے تویہ بھی پرویز مشرف کی طرح عدلیہ کو گرفتار اور ججوںکو بند کردیتے ۔ ان کے ایجنڈے میںکوئی فرق نہیںہے دونوں ایک ڈگر پر گامزن ہیں۔ یہ اقدامات تباہی پر مبنی ہے اتنی بڑی تباہی کبھی نہیں دیکھی ۔ اچھے انتظامات کے ذیعے 4 سو ارب روپے بچائے جا سکتے ہیں چن چن کرکرپٹ لوگوںکو سرکاری کارپوریشنوںمیں لگایا جا رہاہے ۔ اسی کو سربراہ بناتے ہیںجو دن رات پیسہ خود بھی لوٹے اور انکو بھی حصہ دے۔ نواز شریف نے اعلان کیا کہ وہ بجٹ میں سابق وزیراعظم کے لیے مختص مراعات نہیں لیں گے انہوںنے کہا کہ میں دو بار وزیراعلیٰ اور وزیراعظم رہا۔کسی بھی دور میںکوئی بھی ڈیوٹی فری گاڑی نہیںمنگوائی ، پرمٹ ، پلاٹس اور لائسنس کی سیاست کو ختم کیا ۔ انہوںنے کہا کہ پلاٹ کا تذکرہ وہ بھی کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم نے خود ہی یہ پلاٹ نہیںمانگا تھا بلکہ ہمیں دیا گیا تھا۔ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ پلاٹس میرے پاس مانگنے آئے تھے۔ یہ خود آیا تھا اور لکھ کر دیا تھا کہ ملک میں میرے پاس کوئی جگہ اور گھر نہیںہے وقت آنے پر قوم کوحقائق سے آگاہ کروں گا۔ٹیکسٹائل کوٹہ ختم کرنے کااعزاز بھی ہمیں حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے کہاکہ گورنر ز ، وزرائے اعظم ،چیف آف آرمی سٹاف اور دیگر تمام چیفس ڈیوٹی فری گاڑیاں منگواکر ایک ایک کروڑ روپے کا منافع کماتے رہے ۔ واحد نواز شریف ہے جس نے کوئی گاڑی نہیںمنگوائی تھی۔ ہمارے دورمیں ملکی قرضے 2946 تھے۔ غیر معمولی اضافے کے ساتھ یہ قرضے 12024 ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیں ۔ ہر پیدا ہونے والے بچے پر 61 ہزار روپے کا قرضہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی وزیراعظم بنے گا اس کے پاس گیدڑ سنگھی یا جادو کی چھڑی نہیں ہوگی کہ فوری حالات کو سدھار دے ۔90 دنوں میں حالات سدھارنے والے قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ چکر بازی کررہے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ اب بھی پاکستان میںپانی کے ذریعے 85 ہزار میگا واٹ بجلی پیداکی جا سکتی ہے ۔ ان حکمرانوں نے کیاہے مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی دھماکے ہونے چاہئیں تھے۔ مگر یہاں کارخانے بند ، گھروں میں گیس اور بجلی نہیںہے ۔تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے ۔ بے روزگاری عروج پر ہے ۔قوم دھکے کھانے پر مجبورہیں۔ انہیں ایک اور سال مل گیا تو نجانے ملک کوکہاں لے جائیں گے۔ عوام کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں حالات گھمبیر ضرور ہیں تاہم پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنانا میرااور میریپارٹی کا خواب اور وہی چمک آج بھی ہماری آنکھوںمیںموجودہے ۔ باصلاحیت ٹیم کے ذریعے ملک کی کشتی کو بھنورسے نکال سکتے ہیں۔ یہاں وزیر مشیر کرپشن کا پیشہ واپس کرتے ہیں اور اتنے ڈھیٹ ہیں کہ استعفے بھی نہیں دیتے اور ہمارا ٹریک یکارڈ گواہ ہے کہ ہم نے پاکستان کی خودمختاری کے لیے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ۔ خود مختاری ، عزت ، توقیر ، غیرت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریںگے۔ اللہ کے سواکسی سے نہیں ڈرتے۔ تجربہ کار ٹیم موجود ہے ۔ ترقی اور خوشحالی کی منزل کا خواب پورا ہو سکتا ہے ۔ اور ملک کو دلدل سے ضرورنکالیں گے۔ یہی عزم ہے اور یہی ہمارا ماضی کا ریکارڈ ہے،سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار ، احسن اقبال ، انجنیئر خرم دستگیر اور دیگرنے بھی خطاب کیا جبکہ قائد حزب اختلاف چوہدری نثارعلی خان ، سینیٹرمشاہد اللہ خان ، سینیٹر نزہت صادق، خواجہ محمدآصف اور دیگر بھی رہنما موجودتھے۔
تبصرے