سروسز ہسپتال کی انتظامیہ نے ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال کے دوران وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر بھرتی کئے جانے والے ایڈہاک ڈاکٹروں کو کام کرنے سے روک دیا۔
لاہور (ثناء نیوز) سروسز ہسپتال کی انتظامیہ نے ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال کے دوران وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر بھرتی کئے جانے والے ایڈہاک ڈاکٹروں کو کام کرنے سے روک دیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف ڈاکٹر سراپا احتجاج بن گئے۔ انہوں نے ہفتے کی دوپہر پرنسپل پروفیسر فیصل مسعود اور ایم ایس ڈاکٹر ریحانہ ملک کے خلاف شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔ ڈاکٹروں نے وزیراعلی سے واقعہ کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال کے دوران شدید مشکلات کے باعث صوبائی دارالحکومت کے ٹیچنگ ہسپتالوں کو پچاس پچاس ڈاکٹر بھرتی کرنے کی ہدایت کی تھی۔ گذشتہ روز ہائیکورٹ کی طرف سے ینگ ڈاکٹروں کی ڈیوٹی پر واپس آنے کی ہدایت کے بعد سروسز ہسپتال انتظامیہ نے ینگ ڈاکٹروں کے ڈیوٹی پر آنے سے قبل ہی نئے بھرتی کئے جانے والے ڈاکٹروں کو کام کرنے سے روک دیا جس کے بعد ان ڈاکٹروں نے سروسز ہسپتال کے پرنسپل پروفیسر فیصل مسعود اور ایم ایس ریحانہ ملک کے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔ ان ڈاکٹروں کے مطابق ہسپتال انتظامیہ نے ان کے ساتھ مذاق کیا ہے اور ان کی عزت نفس مجروع کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ اس معاملہ کا فوری نوٹس لیں۔ اس موقع پر متاثرہ ڈاکٹروں نے اعلان کیا کہ اگر ہمارے آرڈر منسوخ کئے گئے تو وہ سروسز ہسپتال میں خودسوزی کرلیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری ہسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت پر ہوگی۔
تبصرے